Blog

دنیا کے امیر ترین کفایت شعار افراد

دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کا غلبہ ہے اور لوگ دن رات دولت کمانے میں صرف کر دیتے ہیں اور امیر بن کر ہر طرح کی پرتعیش زندگی گزارنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔

دنیا بھر میں امیر ترین افراد کے پرتعیش طرز زندگی کی داستانیں عام ہیں جیسے ان کی کشتیاں اور بلند و بالا محل سے لے کر ان کے کپڑے، زیورات اور دیگر اشیاء سب کچھ مہنگے سے مہنگا ہوتا ہے۔

تاہم ایسے ارب پتی حضرات کی بھی کمی نہیں جو اربوں ڈالرز کے مالک ہونے کے باوجود عام سادہ سی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کو دیکھ کر کسی کو بھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں۔

تو ایسے ہی کچھ افراد کا طرز زندگی جانیے جنھوں نے کروڑوں بلکہ اربوں ڈالرز کمائے ہیں مگر اپنی کفایت شعاری کے ساتھ فلاحی کام کرتے ہوئے زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مارک زکربرگ

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

مارک زکربرگ لگ بھگ 70 ارب ڈالرز کے مالک ہیں اور دنیا کے پانچویں امیر ترین شخص ہیں، ان کے اثاثے اتنے زیادہ ہیں کہ روزانہ ایک نئی فراری گاڑی خرید سکتے ہیں، مگر فیس بک کے بانی ایک سستی واکس ویگن جی ٹی آئی چلاتے ہیں، جس کی مالیت 30 ہزار ڈالرز ہے۔

اسی طرح جب انہوں نے شادی کی تو انہوں نے کسی جگہ کا انتخاب کرنے کی بجائے اپنے گھر کے احاطے کو ترجیح دی تاکہ خرچے سے بچا جاسکے، جبکہ ہنی مون کے دوران یہ جوڑا اٹلی میں میکڈونلڈ کے برگر کھا کر بچت کرتا رہا۔

بل گیٹس

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

بل گیٹس دنیا کے امیر ترین شخص ہیں مگر ان کی کلائی میں صرف 10 ڈالرز کی گھڑی ہے، جبکہ کفایت شعاری کے لیے وہ نئے فیشن یا آسان الفاظ میں مہنگے ملبوسات پہننا پسند نہیں کرتے۔

اسی طرح وہ ہر رات اپنے گھر میں برتن دھونا پسند کرتے ہیں کیونکہ ڈش واشر کو استعمال کرنے سے آخر کار بجلی کا خرچہ جو ہوتا ہے۔

کارلوس سلم

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

یہ میکسیکو کے امیر ترین شخص ہیں مگر اپنی پرانی گاڑی کو خود ڈرائیو کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ ڈرائیور کی تنخواہ کے پیسے بچائے جاسکیں۔

اسی طرح اپنے ریٹیل اسٹور پر رکھے سستے ملبوسات خریدتے ہیں جبکہ چالیس سال سے زائد عرصے سے وہ اپنے درمیانے درجے کے گھر میں مقیم ہیں۔

ایمانسیو اورٹیگا

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

‘زارا’ جیسی دنیا بھر میں مقبول فیشن کمپنی کے ارب پتی مالک انتہائی کفایت شعاری سے زندگی گزارتے ہیں۔

وہ نہ صرف ایک سستے اپارٹمنٹ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ مقیم ہیں بلکہ اپنی جوانی کے زمانے سے ایک سستے کافی شاپ میں جاکر گرم مشروب پینا پسند کرتے ہیں۔

فیشن کی دنیا میں ان کی کمپنی کا بڑا نام ہے مگر وہ خود عام طور پر انتہائی سادہ قسم کے لباس میں نظر آتے ہیں جبکہ پیسے بچانے کے لیے دوپہر کا کھانا بھی کمپنی کے کیفے ٹیریا میں کھاتے ہیں۔

ڈیوڈ کیروٹن

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

ڈیوڈ کیروٹن امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور آریسٹا نیٹ ورک کے شریک بانی ہیں، وہ 1998 میں گوگل میں سرمایہ کاری کرنے والے اولین افراد میں سے ایک ہیں، جب دنیائے انٹرنیٹ پر حکمران سرچ انجن کے بانیوں لیری پیج اور سرگئی برن نے اپنے پراجیکٹ کے بارے میں ان سے تذکرہ کیا تھا۔

اس وقت ایک لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری پروفیسر ڈیوڈ کے بہت کام آئی اور اگرچہ وہ ارب پتی بننے کے خیال کو پسند نہیں کرتے مگر اب ان کے اثاثوں کی مالیت 2.9 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔

تاہم پروفیسر ڈیوڈ نے 2006 میں ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ پرتعیش طرز زندگی کے خلاف ہیں اور جو لوگ درجنوں باتھ رومز کے ساتھ محل نما گھر تعمیر کرتے ہیں اور دیگر لگژری اشیاء کو ترجیح دیتے ہیں، ان کے اندر کچھ نہ کچھ غلط ہوتا ہے۔

ارب پتی ہونے کے باوجود یہ پروفیسر اب بھی 1986 کی واکس ویگن ویناگون ڈرائیو کرتے ہیں اور گزشتہ 30 برس سے ایک ہی گھر میں رہتے آرہے ہیں، یہاں تک کہ اپنے بال بھی خود کاٹتے ہیں اور ٹی بیگز کو بھی کئی کئی بار دوبارہ استعمال کرلیتے ہیں۔

تاہم 2012 میں اپنے بچوں کی فرمائش پر مجبور ہوکر انہوں نے ہنڈا اوڈیسے گاڑی خریدی تھی۔

جیک ما

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

علی بابا گروپ ہولڈنگ لمیٹڈ ایک چینی ای کامرس کمپنی ہے اور اس کے بانی و چیئرمین جیک ما، چین کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں مگر نمود و نمائش کے سخت مخالف اور اپنی ذاتی زندگی کو لوگوں کی نگاہوں سے دور رکھنے کے حامی ہیں۔

جیک ما کی پرورش چین کے ایک غریب کمیونسٹ گھر میں ہوئی، وہ دو بار کالج میں داخلے کے امتحانات میں ناکام ہوئے اور انہیں درجنوں ملازمتوں سے برطرف کیا گیا۔

اب جبکہ وہ چین سمیت دنیا بھر میں ایک معروف شخصیت اور امیر ترین فرد بن چکے ہیں وہ اب بھی چوٹیوں کے اوپر مراقبے اور اپنے گھر میں دوستوں کے ساتھ پوکر کھیل کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ان کے ایک دوست اور کمپنی میں معاون چین نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ جیک ما کا طرز زندگی بہت سادہ اور متعدل ہے۔ ان کے پسندیدہ مشاغل میں اب بھی ٹائی چی اور کنگفو ناولز پڑھنا ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ دنیا کے امیر ترین شخص بن کر بھی بدلیں گے کیونکہ ان کا انداز بدلنے والا نہیں یا وہ پرانی سوچ کے حامل شخص ہیں۔

ڈیوڈ کارپ

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

ڈیوڈ کارپ معروف بلاگنگ پلیٹ فارم ٹمبلر کے بانی اور سی ای او ہیں جن کی کمپنی کی مالیت اربوں ڈالرز ہے تاہم اس کے باوجود وہ سادہ طرز زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے اپنی دولت سے سب سے بڑی عیاشی جو کی وہ نیویارک کے علاقے بروکلین میں 1700 اسکوائر فٹ کا گھر تھا جس کے لیے 16 لاکھ ڈالرز خرچ کیے تاہم اب بھی اس کا آدھا حصہ خالی پڑا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیوڈ اپنی دولت اتنی کفایت شعاری سے خرچ کرتے ہیں کہ ان کے پاس پہننے کے لیے زیادہ کپڑے تک نہیں۔

فوربس کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس کوئی کتاب نہیں اور میرے پاس زیادہ کپڑے بھی نہیں۔

ڈیوڈ کے بقول میں ہمیشہ اس وقت حیران رہ جاتا ہوں جب لوگ اپنے گھروں کو اُن چیزوں سے بھر لیتے ہیں جن کا کوئی زیادہ فائدہ بھی نہیں ہوتا۔

عظیم پریم جی

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

ٹیکنالوجی سروسز فراہم کرنے والی بڑی کمپنی ویپرو کے چیئرمین عظیم پریم جی بھارت کے دولتمند ترین افراد میں سے ایک ہیں، مگر وہ دولت خرچ کرنے سے نفرت کرتے ہیں۔

16.1 ارب ڈالرز کے مالک عظیم پریم عام طور پر فضائی سفر کے دوران سستی ترین کلاس کا انتخاب کرتے ہیں اور ایئرپورٹ سے اپنے دفتر جانے کے لیے آٹو رکشہ لینا پسند کرتے ہیں۔

وہ اپنے دفاتر میں اتنی کفایت شعاری سے کام لیتے ہیں کہ ٹوائلٹ پیپر تک کی مانیٹرنگ کرتے ہیں اور اکثر اپنے ملازمین کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ دفتر سے جانے سے قبل تمام اضافی لائٹس بند کرکے جائیں۔

ان کی کمپنی کے ایک عہدیدار کے مطابق عظیم پریم جی نے انکل اسکروج (معروف کارٹون جو بطخ کی شکل کا امیر ترین فرد ہوتا ہے) کو سانتا کلاز جیسا بنا دیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عظیم پریم جی چاہیں تو ایک جیٹ طیارہ بھی خرید سکتے ہیں مگر وہ گاڑی تک خریدنے کے روادار بھی نہیں ۔

جان کوم

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

واٹس ایپ جیسی کامیاب سوشل میڈیا سائٹ کے بانی جان کوم اب اربوں ڈالرز کے مالک ہیں تاہم آغاز میں وہ بہت غریب تھے۔

جان کوم کی پیدائش یوکرائن کے شہر کیف میں ہوئی اور وہ اپنے خاندان کے ہمراہ اُس وقت امریکا منتقل ہوئے جب ان کی عمر 16 سال تھی جہاں اس خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور گزر بسر کے لیے حکومتی امداد لینا پڑی۔

جان کوم لڑکپن سے ہی پیسہ بچانے کے عادی تھے اور جب ان کی ویب سائٹ واٹس ایپ کو فروری 2014 میں فیس بک نے 19 ارب ڈالرز کے عوض خریدا تو انہوں نے فیس بک پر دباﺅ ڈالا کہ وہ ان کی بارسلونا جانے والی پرواز سے پہلے معاہدے کرلے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اس پرواز کا ٹکٹ رعایتی اسکیم میں لیا تھا جسے وہ ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔

ٹم کوک

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

ایپل کمپنی کے سی ای او ٹم کوک کو کون نہیں جانتا اور اب بھی وہ امریکا کی سیلیکون ویلی کے سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے چیف ایگزیکٹو ہیں مگر ان کے طرز زندگی کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا ناممکن ہے کہ وہ کروڑوں ڈالرز کے مالک ہیں۔

ٹم کوک عام لوگوں کی نظروں سے دور رہ کر زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں، انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں 19 لاکھ ڈالرز کے عوض گھر خریدنے کے سوا آج تک کسی پرتعیش چیز پر زیادہ رقم خرچ نہیں کی۔

ان کا کہنا ہے، میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے ایسے فرد کے طور پر جانیں جو جہاں سے تعلق رکھتا تھا وہی رہا اور اپنی ذات کو یہاں کے ماحول میں رکھنے سے مجھے ایسا کرنے میں مدد ملے گی، دولت کبھی بھی میرے لیے آگے بڑھنے کا عزم نہیں رہی۔

ٹم کوک نے گزشتہ دنوں یہ اعلان بھی کیا تھا کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی دولت کا زیادہ تر حصہ خیراتی اداروں کے نام کردیں گے اور بس اپنے بھتیجے کے تعلیمی اخراجات کو ہی اپنے پاس رکھیں گے۔

سرگئی برن

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

گوگل کے شریک بانی سرگئی برن دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں اور یہ کہنا کچھ عجیب سا لگے گا کہ متعدد نجی طیاروں کا مالک فرد کفایت شعار ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ سرگئی برن خود تسلیم کرچکے ہیں کہ انہیں دولت خرچ کرنا پسند نہیں۔

اپنے ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اپنے والدین سے میں نے کفایت شعار رہنا سیکھا اور میں متعدد آسائشات کے بغیر بھی بہت خوش ہوں۔

انہوں نے کہا کہ وہ موقع بہت دلچسپ ہوتا ہے جب میں پلیٹ میں ایک ذرہ تک چھوڑ کر اٹھنا پسند نہیں کرتا۔ میں اب بھی عام اشیاء کی قیمتوں کا جائزہ لیتا ہوں اور خود کو مجبور کرتا ہوں کہ کم سے کم خرچ کروں اگرچہ میں کنجوس نہیں مگر متعدد آسائشات نہ ہونے کے باوجود خود کو خوش باش محسوس کرتا ہوں۔

وہ اب بھی رعایتی قیمتوں پر اشیاء خریدتے ہیں اور فلاحی کام کرنا پسند کرتے ہیں، 2013 میں انہوں نے اور ان کی (سابقہ) اہلیہ این ووجکیکی نے 219 ملین ڈالرز اس مقصد کے لیے خرچ کیے۔

Advertisements

10 Things That Happen To Your Body When You Eat Lemons

1. You Look Younger
Don’t waste your money on expensive face creams or spa treatments; adding some lemon to your diet could be all you need to achieve a youthful glow. According to a study from The American Journal of Clinical Nutrition, high vitamin C intake was associated with a lower likelihood to develop wrinkles and less skin dryness; two physical traits that can age you big time. Since one lemon contains about half of your daily recommended amount of vitamin C, stocking up on the citrus fruit will make you immortal… or at least, look like you are.

2. Your Blood Pressure Goes Down
High blood pressure can lead to scary stuff like kidney failure, a heart attack or a stroke. Luckily, eating lemons on the regular has been proven to help. People who ate at least half a lemon a day, coupled with walking about 7,000 steps, greatly increased their blood pressure levels, according to a study published in the Journal of Nutrition and Metabolism. Although lemons shouldn’t be the sole treatment for something as serious as high blood pressure, it’s a promising health benefit; a lemon a day could keep the doctor away.

3. Your Cholesterol Improves
Lemons are chock-full of cholesterol-fighting ingredients, including vitamin C, which has been proven to lower levels of LDL, or “bad” cholesterol, according to a study in the Journal of Chiropractic Medicine. Lemons also contain flavonoids, which lowered the levels of LDL and triglycerides in participants of a study published in Alternative Therapies in Health and Medicine. And the pectin in lemon peels was found to lower hamsters’ cholesterol in a European Journal of Nutrition study. Although hamsters aren’t humans, there’s enough strong evidence to add lemons into your daily diet for cholesterol-lowering benefits.

4.And You’ll Lose Weight
Lemons are rich in polyphenols, which are naturally-occurring compounds that contain antioxidants. Although citrus fruits have their own combination of polyphenols, the ones found in lemons can have significant health benefits. A study published in the Journal of Clinical Biochemistry and Nutrition found that mice who were fed a high-fat diet and also lemon polyphenols experienced a suppression of fat accumulation and weight gain, and an improvement in levels of blood sugar, leptin, and insulin. Although scientific results in mice don’t always translate to the same in humans, the researchers still recommend an intake in lemon polyphenols as a way to combat obesity.

5. You Fight Off Inflammation
Although regular inflammation is important for your body’s immune response to fight off something like a cold, chronic inflammation can lead to weight gain, fatigue, digestive issues, mood swings, and even cancer — pretty nasty stuff. Luckily, vitamin C has antioxidant properties that have been proven to reduce inflammation, according to a study published in the Indian Journal of Clinical Biochemistry. vitamin C was found to be beneficial during inflammatory conditions, including protecting immune cells.

6. You May Fight Off a Cold Quicker
There’s a reason your mom told you to stock up on orange juice if you have a cold; vitamin C has long been essential for staving off cold symptoms. Although research on just how much vitamin C has an impact on the common cold is mixed, it did show some therapeutic benefits at the onset of symptoms, according to a review published in the Cochrane Database of Systematic Reviews. It also had positive respiratory health benefits, another bonus when fighting off an annoying cold.

7. You’ll Drink More Water
There’s no denying that water by itself is pretty boring. Although drinking plenty of water is associated with such positive health benefits as losing weight, a faster metabolism and more energy, sipping on plain, flavorless liquid gets tiresome. Adding lemon juice water makes it more refreshing and palatable. Even the CDC recommends adding a fresh lemon squeeze to still or sparkling water in lieu of soda, which is terrible for you.

8. You’ll Have Fresher Breath
Nothing ruins the mood like bad breath. But if you’re out of gum or mints, reach for a lemon! Lemons are known to freshen up your home, and the same can be said for your mouth. The acid in lemon juice neutralizes odors, which helps combat nasty breath from things like garlic and onions.

9.But They Can Wreak Havoc on Your Teeth
Just don’t go overboard on the lemon juice. Lemons are highly acidic, which can wear away the enamel of your teeth. Once your tooth enamel is gone, there’s no getting it back, and enamel erosion can lead to discoloration and extreme tooth sensitivity. Lemons may have amazing health benefits, but it’s best to enjoy them in moderation (like anything else).

10. You Won’t Get Kidney Stones
If you’ve ever had a kidney stone, then you know the excruciating pain that comes with trying to pass one. But if lemons are regularly a part of your diet, you may not have to worry about it. Lemons have a high amount of citrate, which has been proven to naturally prevent the formation of kidney stones. A study published in Urology found that patients who received lemonade therapy (four ounces of lemon juice in two liters of water a day with little to no sugar) formed kidney stones at a slower rate than before they started treatment. It was so beneficial, the researchers recommend lemonade therapy as an alternative treatment for kidney stone removal. Speaking of staying healthy, read up on 40 Habits That Make You Sick and Fat for more salt and sugar duos that you should steer clear of to avoid weight gain!

http://myhealth3.com/2017/03/03/10-things-that-happen-to-your-body-when-you-eat-lemons/

جزیرہ استولہ: پاکستان کا ایک خفیہ گوہر

جزیرہ استولہ: پاکستان کا ایک خفیہ گوہر عباس علی طور ہر کوئی پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی سے آشنا ہے مگر بہت تھوڑے ہی ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے اس ملک کے جنوب میں ساحلی کناروں کی دلفریب خوب…

Source: جزیرہ استولہ: پاکستان کا ایک خفیہ گوہر

جزیرہ استولہ: پاکستان کا ایک خفیہ گوہر

جزیرہ استولہ: پاکستان کا ایک خفیہ گوہر

عباس علی طور

ہر کوئی پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی سے آشنا ہے مگر بہت تھوڑے ہی ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے اس ملک کے جنوب میں ساحلی کناروں کی دلفریب خوبصورتی اور پر کشش نظارے دیکھے ہوں۔

مقبول برطانوی ایڈوینچرر ٹریسی کرٹن ٹیلر سے ملاقات سے پہلے تک میں نے بھی پاکستان کے ساحلی کناروں کو دیکھنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا، مگر انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے اس سے پہلے اس قدر خوبصورت ساحلی پٹی نہیں دیکھی تھی۔

میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ استولہ جزیرے پر جانے کا منصوبہ بنایا۔ استولہ بلوچستان کو چھونے والے بحیرہ عرب کے چند قیمتی خفیہ گوہروں میں سے ایک ہے۔

ہم نے اپنے سفر کا آغاز نومبر کی سرد صبح میں پسنی سے کشتی میں سوار ہو کر کیا۔ پسنی استولہ سے 35 کلومیٹر دور ایک ملاحی قصبہ ہے۔ کشتی جب مجھے پسنی سے تھوڑا دور لے گئی تو میں نے پیچھے مڑ کر اس قصبے کو دیکھا، جہاں جبلِ زرین (خوبصورت پہاڑ) شفاف ساحلی کنارے پر آب و تاب سے کھڑا تھا اور ارد گرد سنہری ریت کے ٹیلے نظر آئے جنہیں دیکھ کر میرے ذہن میں لوک عربی داستانوں کا تصور پیدا ہوا۔

سمندر سے پسنی کا نظارہ جہاں سنہری ریت کے ٹیلے نظر آ رہے ہیں— تصویر عباس علی طور
سمندر سے پسنی کا نظارہ جہاں سنہری ریت کے ٹیلے نظر آ رہے ہیں— تصویر عباس علی طور

کشتی کے کپتان نے ہمیں بتایا کہ موسم سرما میں سمندر پرسکون رہتا ہے اس طرح یہ جزیرے پر جانے کا ایک بہترین وقت ہوتا ہے۔

ہم جب کھلے سمندر پر پہنچے تو وہاں ہمارے اوپر پرسکون پرواز کرتے بحری بگلوں اور قریب ہی موجود مچھیروں کی کشتی، جس میں ایک شخص جال کو کھینچ رہا تھا، نے ہمارا استقبال کیا۔ بحری بگلے سمندر سے ایک یا دو مچھلیوں کے شکار کے لیے پانی میں غوطہ لگانے کے درست وقت کی تلاش میں خاموشی سے پانی میں نظریں جمائے مشاہدہ کر رہے تھے۔ ان میں سے چند اس کام میں کامیاب رہے، وہ نظارہ کافی حیران کن تھا۔

جب مزید آگے بڑھے تو میں نے مچھیروں کی بڑی بڑی کشتیاں گزرتے ہوئے دیکھیں۔ میرا دوست بخشی، جو فشریز ڈپارٹمنٹ میں ملازم ہے، نے ہمیں بتایا کہ ان کشتیوں کو ’لانچ‘ کہا جاتا ہے۔

ایک کشتی کو 15 سے 20 آدمیوں پرمشتمل ٹیم چلاتی ہے جو تمام دن مچھلی پکڑتے ہیں۔ پسنی کے ساحل سے پکڑی جانے والی مچھلیاں خاصی مقبولیت کی حامل ہیں اور برآمد بھی کی جاتی ہیں۔

ہم جیسے ہی استولہ کے ذرا قریب پہنچے اور جزیرے کے جانب دیکھا تو مجھے سمندر کے بیچوں بیچ ایک بلند و بالا ایک انوکھے طرز کی چٹان نظر آئی۔ ہم جب ذرا اور قریب پہنچے تو صاف و شفاف پانی کے فیروزی رنگ نے مجھے دنگ کر دیا اور میں نے خود کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ میں بحیرہ روم کے کسی ساحلی کنارے پر نہیں بلکہ پاکستان میں ہوں۔

استولہ کی چٹانوں سے پانیوں کا نظارہ — تصویر عباس علی طور
استولہ کی چٹانوں سے پانیوں کا نظارہ — تصویر عباس علی طور

استولہ کو جزیرہ ہفت تلار بھی کہا جاتا ہے جس کی وجہ وہ سات چھوٹی، چٹانی پہاڑیاں ہیں جو 15 مربع کلومیٹر کے جزیرے پر پھیلی ہیں۔

اس جگہ کی اس قدر نایاب خوبصورتی برقرار رہنے کی وجہ اس جزیرے کا دور دراز واقع ہونا ہے۔ کراچی سے پسنی پہنچنے کے لیے آپ کو 7 گھنٹے کی ڈرائیو درکار ہوتی ہے پھر وہاں سے استولہ تک آپ کو تین گھنٹے کشتی میں سفر کرنا پڑتا ہے۔

ہم جیسے ہی جزیرے پر پہنچے تو میں نے اسے اونچائی سے دیکھنا چاہا اس لیے میں ایک پہاڑی پر چڑھ گیا۔ نرم مٹی اور پھسلن بھری چٹانوں کی وجہ سے چڑھائی تھوڑی مشکل رہی۔

تھوڑی محنت کے بعد مجھے تھوڑی سپاٹ زمین مل گئی تھی۔ جب ہم اونچائی پر پہنچے اور وہاں سے اس کے ساحلی کناروں کو دیکھا جو اوپر سے اور بھی دلفریب لگ رہے تھے، تو ساری محنت وصول ہو گئی۔

اس خوبصورت نظارے کے لیے پیچیدہ چڑھائی عبور کرنے کا تجربہ کافی دلچسپ رہا — تصویر عباس علی طور
اس خوبصورت نظارے کے لیے پیچیدہ چڑھائی عبور کرنے کا تجربہ کافی دلچسپ رہا — تصویر عباس علی طور

لہروں کے حساب سے پانی کا رنگ اور ساحلی کنارے کا نقشہ پورے دن بدلتا رہتا ہے۔ یہاں قریب 20 فٹ گہری سمندر کی تہہ بھی نظر آ رہی ہوتی ہے۔

جزیرے پر نظاروں کے لیے کوئی بھی عمارت موجود نہیں ما سوائے ایک لائٹ ہاؤس کی باقیات کے جسے حکومت نے 1983 میں تعمیر کروایا تھا۔

پہاڑیوں پر چند گھنٹے گزارنے کے بعد ہم نیچے اتر آئے اور جزیرے کو دیگر اطراف سے دیکھنے کے لیے کشتی میں سوار ہو گئے۔ جزیرے کا ہر کونا اپنے سابقہ کونے سے زیادہ خوبصورت تھا۔ جزیرے کے شمالی کونے میں ساحل سمندر نہیں تھا۔

ہم نے پانی میں اسنورکلنگ کی۔ مختلف رنگوں کی مچھلیاں دیکھ کر تعجب ہو رہا تھا۔ ہم جب واپس کشتی پر پہنچے تو ملاح نے ہمیں چند تازہ پکڑی گئی مچھلیاں دکھائیں۔

ہم جب اسنورکلنگ میں مصروف تھے تب ہماری کشتی پر سوار ایک ملاح نے مچھلیاں پکڑی تھیں — تصویر عباس علی طور
ہم جب اسنورکلنگ میں مصروف تھے تب ہماری کشتی پر سوار ایک ملاح نے مچھلیاں پکڑی تھیں — تصویر عباس علی طور

چونکہ جزیرے پر کسی قسم کی سہولیات موجود نہیں ہیں اس لیے ہمیں پانی، خوراک سے لے کر کیمپنگ کا سارا سازو سامان تک باندھنا پڑا۔ ہم نے کشتی پر دوپہر کا کھانا کھایا۔ ہمارے ارد گرد جیلی فش اپنے ریشوں کی مدد سے تیر رہی تھی۔

اس نے میرے ایک دوست کو ڈنک بھی مارا جس کی وجہ سے ہورے 10 گھنٹوں تک اسے تکلیف سے گزرنا پڑا۔ جو لوگ پہلی بار یہاں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں بتاتا چلوں کہ جیلی فش صرف دکھنے میں ہی خوبصورت نظر آتی ہیں۔

جزیرے پر کہیں کہیں سبزہ نظر آ جاتا ہے جو یہاں پر ہونے والی برسات کی دَین ہیں۔ اس جزیرے کے پاس تازہ پانی کا اپنا کہیں کوئی ذریعہ موجود نہیں۔ کیکر ہی ایسا واحد درخت ہے جو کہ اس طرح کے سخت حالات جھیل سکتا ہے۔

استولہ ایک مشکل مگر کیمپنگ اور فطرت کی سیاحت کے لیے ایک مقبول جگہ ہے۔ لوگ اکثر ساحلی کنارے پر کیمپنگ کرتے ہیں اور اسنورکلنگ، گہرے سمندر میں غوطہ خوری یا پھر پانی کے اندر جا کر مچھلیاں پکڑتے ہیں۔

جیسے جیسے استولہ کی مقبولیت حاصل ہوتی جا رہی ہے ویسے ویسے سیاحوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ اس طرح اس جزیرے کی خوبصورتی متاثر نہیں ہوگی۔

دوپہر میں جزیرے سے ٹکراتا سمندر پرسکون محسوس ہوتا ہے— تصویر عباس علی طور
دوپہر میں جزیرے سے ٹکراتا سمندر پرسکون محسوس ہوتا ہے— تصویر عباس علی طور
جزیرے کی سات پہاڑیوں سے غروبِ آفتاب کا ایک دلکش نظارہ— تصویر عباس علی طور
جزیرے کی سات پہاڑیوں سے غروبِ آفتاب کا ایک دلکش نظارہ— تصویر عباس علی طور
کیمپنک کرنے آنے والوں کی کشتی استولہ کی جانب گامزن ہے — تصویر عباس علی طور
کیمپنک کرنے آنے والوں کی کشتی استولہ کی جانب گامزن ہے — تصویر عباس علی طور
ملاح مچھلیوں کو پکڑنے کا جال سمندر میں پھینک رہے ہیں — تصویر عباس علی طور
ملاح مچھلیوں کو پکڑنے کا جال سمندر میں پھینک رہے ہیں — تصویر عباس علی طور
کشتی سے جزیرے کا ایک منظر— تصویر عباس علی طور
کشتی سے جزیرے کا ایک منظر— تصویر عباس علی طور
جزیرے کا یہ نظارہ جفاکش کوہ پیمانی کے بعد ہی نصیب ہوا — تصویر عباس علی طور
جزیرے کا یہ نظارہ جفاکش کوہ پیمانی کے بعد ہی نصیب ہوا — تصویر عباس علی طور
جزیرے پر موجود محدود سبزہ — تصویر عباس علی طور
جزیرے پر موجود محدود سبزہ — تصویر عباس علی طور
استولہ پہنچنے پر ایک بڑا انوکھا سا پتھر— تصویر عباس علی طور
استولہ پہنچنے پر ایک بڑا انوکھا سا پتھر— تصویر عباس علی طور
صاف شفاف، فیروزی رنگ کا پانی دور سے مزید گہرا ہوتا جاتا ہے— تصویر عباس علی طور
صاف شفاف، فیروزی رنگ کا پانی دور سے مزید گہرا ہوتا جاتا ہے— تصویر عباس علی طور
پاکستان کے دیگر حصوں کے برعکس یہاں پانی انتہائی صاف اور شفاف ہے — تصویر عباس علی طور
پاکستان کے دیگر حصوں کے برعکس یہاں پانی انتہائی صاف اور شفاف ہے — تصویر عباس علی طور
جزیرے پر کیمپنگ کے لیے ہمیں تمام ساز و سامان ساتھ لے جانا پڑا اور کھانا بھی خود پکانا پڑا تھا— تصویر عباس علی طور
جزیرے پر کیمپنگ کے لیے ہمیں تمام ساز و سامان ساتھ لے جانا پڑا اور کھانا بھی خود پکانا پڑا تھا— تصویر عباس علی طور
ہم جب کشتی پر جزیرے کی جانب جا رہے تھے تب بحری بگلے نچلی پرواز کے ساتھ پانی میں مچھلی تلاش کر رہے تھے — تصویر عباس علی طور
ہم جب کشتی پر جزیرے کی جانب جا رہے تھے تب بحری بگلے نچلی پرواز کے ساتھ پانی میں مچھلی تلاش کر رہے تھے — تصویر عباس علی طور
جزیرے پر موجود ہر پہاڑی دوسری سے الگ اور انوکھی تھی— تصویر عباس علی طور
جزیرے پر موجود ہر پہاڑی دوسری سے الگ اور انوکھی تھی— تصویر عباس علی طور
پہاڑیوں سے ایک خوبصورت منظر، ساتھ میں ملاحوں کی کشتیاں بھی نظر آ رہی ہیں — تصویر عباس علی طور
پہاڑیوں سے ایک خوبصورت منظر، ساتھ میں ملاحوں کی کشتیاں بھی نظر آ رہی ہیں — تصویر عباس علی طور
شام ڈھلے پانی پر گرتی سورج کی سنہری کرنون سے ایک خوبصورت منظر پیدا کر رہی تھیں — تصویر عباس علی طور
شام ڈھلے پانی پر گرتی سورج کی سنہری کرنون سے ایک خوبصورت منظر پیدا کر رہی تھیں — تصویر عباس علی طور
ساحل سمندر پر مختلف طرح کی سیپیاں پھیلی تھیں — تصویر عباس علی طور
ساحل سمندر پر مختلف طرح کی سیپیاں پھیلی تھیں — تصویر عباس علی طور
ساحل سمندر پر غروب آفتاب کا شاندار نظارہ — تصویر عباس علی طور
ساحل سمندر پر غروب آفتاب کا شاندار نظارہ

Continue reading “جزیرہ استولہ: پاکستان کا ایک خفیہ گوہر”

Blog at WordPress.com.

Up ↑